کاروار ،30 ؍ جون (ایس او نیوز) سٹی میونسپل کاونسل میں کام پورا ہونے کے بعد ٹینڈر طلب کرنے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے سابق ایم ایل اے ستیش سائل نے سی ایم سی کمشنر آر پی نائک کو آڑے ہاتھوں لینے بعد کے کمشنر کے چیمبر میں ہی دھرنا دیا ۔
سابق ایم ایل اے کا الزام ہے کہ سی ایم سی کاروار میں پہلے کام پورا کرنے اور پھر اس کے بعد ٹینڈر طلب کرکے خانہ پری کرنے کے ذریعے بدعنوانی کا سلسلہ چل پڑا ہے ۔ ستیش سائل نے سی ایم سی کمشنر آر پی نائک سے اس تعلق وضاحت طلب کی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہنگامی ضرورت کے تحت عوام اور منتخب عوامی نمائندوں کے اصرار پر اہم کام انجام دئے گئے ہیں ۔ اس پر ستیش سائل نے پوچھا کہ ایک دو کام ہنگامی ضرورت ہوسکتے ہیں ، مگر اتنی بڑی تعداد میں ہنگامی ضرورت کے کام کیسے نکل آئے اور کیسے انہیں پورا کیا گیا ۔ کیا سی ایم سی کی کارکردگی پر کوئی پوچھ تاچھ کرنے والا نہیں ہے ؟ سابق ایم ایل اے نے میونسپل انجینئر سے اس معاملہ میں تحریری وضاحت لینے کی کوشش کی تو کمشنر آر پی نائک نے انہیں اس کا موقع نہیں دیا ۔ اس سے ناراض ہو کر ستیش سائل نے دوپہر سے شام تک کمشنر کے دفتر میں زمین پر بیٹھتے ہوئے دھرنا دیا ۔
معلوم ہوا ہے کہ ستیش سائل نے کاروار سی ایم سی میں چل رہی بدعنوانی اور کام پورا ہونے کے بعد ٹینڈر طلب کیے جانے کی تمام تفصیلات کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کو مراسلہ بھیجتے ہوئے اس معاملہ کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔